بنگلورو،13؍دسمبر (ایس او نیوز) ریاست میں سرکاری ٹرانسپورٹ ملازمین کی ہڑتال جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتی کیونکہ ہڑتالی ملازمین کے ساتھ حکومت کی بات چیت آج بھی ناکام ہوگئی۔ ایسے لگتا ہے کہ حکومت بھی فی الحال ٹرانسپورٹ ملازمین کے مسائل حل کرنے کے حق میں نہیں۔ان حالات میں ایک طرف بسوں میں سفر کرنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری طرف ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔آج اور کل چند اہم روٹوں پر بی ایم ٹی سی کی چند بسوں کو دوڑایا گیا۔شرپسندوں نے ان بسوں پر پتھراؤ کرکے بسوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔نائب وزیراعلیٰ و وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن ساودی نے آج کہا کہ ٹرانسپورٹ ملازمین سے دوستانہ ماحول میں بات چیت کرنے پھرایک بار مدعو کیا جائے گا۔اگر بات چیت کے لئے آمادہ نہ ہوئے تو پیر کے دن سے ریاست بھر میں مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات دور کرنے پرائیویٹ بسوں کو سرکاری بسوں کی شرح ٹکٹوں پر چلانے کا انتظام کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں منصوبہ بندی کے تحت پرائیوٹ کے مالکان سے بات چیت کی جائے گی۔اس سلسلہ میں اخباری نوٹ کے ذریعہ انہو ں نے کہاہے کہ شمول بی ایم ٹی سی ریاست کے چار ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے ایک لاکھ 30ہزار ملازمین کے مفادات کا تحفظ کرنے کی ہم کوشش کررہے ہیں۔ٹرانسپورٹ ملازمین سے مجھے خود اور ہماری حکومت کو ہمدردی ہے۔کووڈ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو بھی مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ان حالات میں بھی ملازمین کو تنخواہ ادا کی جارہی ہے۔اس وقت ملازمین کو بھی محکمہ کاتعاون کرنا چاہئے۔
30لاکھ روپئے معاوضہ: انہوں نے بتایا کہ ڈیوٹی کے دوران کووڈ کی وجہ سے فوت ہونے والے ملازمین کے اہل خانہ کو 30لاکھ روپئے معاوضہ دینے کے معاملے پر غور اور متعلقہ افسروں سے تبادلہ خیال کرکے اگلے 15دنوں میں فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے تیقن دیا کہ یہ فیصلہ ملازمین ہی کے حق میں کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملازمین کے دیگر مطالبات پر بھی حکومت غور کرے گی۔ اس لئے کروڑوں مسافروں کو ہورہی مشکلات کا خیال کرتے ہوئے ملازمین اپنی ہڑتال ختم کرکے اپنی ڈیوٹی پر حاضرہوجائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ہڑتال کی آڑ میں چند شرپسند بسوں پر پتھراؤ کرکے کارپوریشنوں کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں۔یاد رہے کہ کارپوریشن کو ہونے والے اس نقصان کا بوجھ ٹرانسپورٹ ملازمین پر بھی پڑے گا۔ کارپوریشن کو ہورہے اس بھاری نقصان سے بچانے ملازمین ہڑتال واپس لے کر اپنی ڈیوٹی بحال کرلیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملہ میں کوئی دہشت نہیں ہونی چاہئے۔ فی الحال اس معاملہ میں فوری کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔